٢٦٨٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الحارث عن كريب مولى ابن عباس (عن أسامة) (١) قال: دخلت على رسول اللَّه ﷺ الكآبة فقلت: ما لك يا رسول اللَّه! قال: "إن جبريل وعدني أن يأتيني، فلم يأتني منذ ثلاث"، (فجاز) (٢) كلب، قال أسامة: فوضعت يدي على رأسي وَصِحْتً، فجعل النبي فيقول: "ما لك يا أسامة؟ "، قلت (جاز) (٣) كلب، (فأمره) (٤) النبي ﷺ بقتله فقُتل، فأتاه جبريل (فهش) (٥) إليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "مالك أبطأت ⦗٨٦⦘ وقد كنت إذا وعدتني لم تخلفني؟ "، فقال: "إنا لا ندخل بيتًا فيه (كلب ولا تصاوير) (٦) " (٧).حضرت اسامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اندر آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پریشانی کے اثرات دیکھے۔ میں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” حضرت جبرائیل نے تین دن سے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے پاس آئیں گے لیکن وہ میرے پاس نہیں آئے ۔ “ اس دوران کتا گزرا ۔ حضرت اسامہ کہتے ہیں ۔ میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور چیخ ماری۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہنا شروع کیا۔ ” اے اسامہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ “ میں نے کہا۔ کتا گزرا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم فرمایا۔ اور اس کو قتل کردیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف لپکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کیا ہوا تھا۔ تم نے دیر کردی جبکہ تم جب میرے ساتھ وعدہ کرتے ہو تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے ؟ “ حضرت جبرائیل نے کہا۔ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔