حدیث نمبر: 26828
٢٦٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن محمد (بن) (١) عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت: واعد النبي ﷺ جبريل (في) (٢) ساعة يأتيه فيها، فراث عليه، فخرج النبي ﷺ فإذا هو بجبريل (قائم) (٣) على الباب فقال له: "ما منعك أن تدخل؟ " قال: "إن في البيت كلبًا، وإنا لا ندخل بيتًا فيه صورة ولا كلب" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حضرت جبرئیل نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک وقت آنے کا وعدہ کیا پھر وہ اس وقت سے تاخیر کر گئے تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو اس وقت حضرت جبرئیل دروازے پر کھڑے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا…” تمہیں اندر داخل ہونے سے کیا رکاوٹ تھی ؟ “۔ انہوں نے کہا۔ ” گھر میں کتا ہے جبکہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ “
حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) ساقطة في: [أ، جـ، ح، ط، ز].
(٣) في [جـ]: (قائمًا).