مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من كان يحلي سيفه بالحديد باب: جو لوگ اپنی تلوار کو لوہے سے مزین کرتے ہیں
حدیث نمبر: 26825
٢٦٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن (ابن) (١) حبيب المحاربي عن أبي أمامة الياهلي صاحب رسول اللَّه ﷺ قال: لقد افتتح الفتوح أقوام (ما) (٢) كانت حلية (سيوفهم) (٣) الذهب ولا الفضة، إنما كانت حليتها العلابي (٤) والآنك (و) (٥) الحديد (٦).مولانا محمد اویس سرور
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی، حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تحقیق کچھ ایسے لوگوں نے بہت سی فتوحات حاصل کیں جن کی تلواروں کا زیور سونا اور چاندی نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کی تلوار کا زیور پٹیاں، سیسہ اور لوہا ہوتا تھا۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (أبي).
(٢) ساقطة في: [ط].
(٣) في [ط]: (بسيوفهم).
(٤) العلابي: نوع من الرصاص، والآنك: نوع آخر منه، انظر: تاج العروس ٣/ ٥٥ و ٤٣٣.
(٥) سقط من: [ط].