٢٦٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عمر بن [سعيد ابن (أبي) (١) حسين] (٢) قال: اخبرتني أمي عن أبي قال: دخلت على أم سلمة، وأنا غلام وعلي خاتم من ذهب فقالت: يا جارية ناولينيه، فناولتها إياه فقالت: اذهبي به إلى أهله واصنعي (له) (٣) خاتمًا من ورق، فقلت: لا حاجة ⦗٦٩⦘ (لأهلي) (٤) فيه، قالت: فتصدقي به واصنعي له خاتمًا من ورق (٥).حضرت عمر بن سعید کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے میرے والد کے حوالہ سے بیان کیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ام سلمہ کے ہاں گیا۔ تب میں چھوٹا بچہ تھا اور میں نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا : اے لونڈی ! یہ انگوٹھی مجھے دینا۔ چناچہ ا س نے وہ انگوٹھی انہیں دی۔ انہوں نے فرمایا : یہ اس کے گھر والوں کے پاس لے جاؤ اور اس کے لئے چاندی کی انگوٹھی بناؤ۔ میں نے کہا۔ میرے گھر والوں کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا : چلو تو اس کو صدقہ کردو اور اس کے لیے چاندی کی انگوٹھی بناؤ۔