حدیث نمبر: 26769
٢٦٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن إدريس عن يزيد بن أبي زياد عن أبي (سعيد) (١) عن أبي الكنود قال: أصيب عظيم من عظمائهم يوم (مهران) (٢) فأصيب عليه (خاتم) (٣) (فلبسته) (٤) فرآه عليَّ ابن مسعود فتناوله فوضعه بين ضرسين من أضراسه (فكسره) (٥) ثم (رماه) (٦) إليَّ ثم قال: إن رسول اللَّه ﷺ نهانا عن خاتم الذهب (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الکنود سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوم مہران کو دشمنوں کے بڑوں میں سے کوئی بڑا مارا گیا ۔ تو میں نے اس پر انگوٹھی دیکھی۔ چناچہ میں نے اس کو پہن لیا۔ پھر اس کو حضرت ابن مسعود نے مجھ پر دیکھا تو اس کو لے لیا اور اس کو اپنی دونوں داڑھوں کے درمیان رکھ کر توڑ دیا پھر اس کو میری طرف پھینک دیا اور فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔
حواشی
(١) في [ز]: (سعد).
(٢) في [هـ]: (نهروان).
(٣) في [جـ]: (خاتمًا).
(٤) في [أ، ح، ز، ط]: (فلبسه).
(٥) في [أ، ح، ط، هـ]: (فكرهه).
(٦) في [جـ]: (رمي به)، وفي [ز]: (رما به).
(٧) مجهول؛ لجهالة أبي سعد الأزدي، ويزيد ضعيف، أخرجه الطبراني ١٠/ ٢٥٩ (١٠٤٩٤)، وأبو يعلى (٥١٥٢)، وأحمد (٣٥٨٢)، والشاشي (٨٨٤)، وابن عبد البر في الاستذكار ٨/ ٣٠٤، والطحاوي ٤/ ٢٦٠، والطيالسي (٣٧٦)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٢٠٠.