مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
ما يقول الرجل إذا لبس الثوب الجديد باب: جب آدمی نیا کپڑا پہنے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 26720
٢٦٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي الأشهب عن رجل من (مزينة) (١) أن رسول اللَّه ﷺ رأى على عمر ثوبا غسيلًا فقال: "أجديد ثوبك هذا؟ " قال: غسيل يا رسول اللَّه قال: فقال له رسول اللَّه ﷺ: "الْبس جديدًا، وعش حميدًا، وتوف شهيدًا، يعطك اللَّه قرة عين في الدنيا والآخرة" (٢).مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ مزینہ کا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر پر دھلا ہوا ایک کپڑا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” کیا تمہارا یہ کپڑا نیا ہے ؟ “ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! دُھلا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا : ” تم نیا کپڑا پہنو اور قابل تعریف زندگی گزارو اور شہادت کی موت پاؤ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں تمہیں آنکھ کی ٹھنڈک عطا کریں۔ “
حواشی
(١) في [ح، ط]: (رمنة).
(٢) منقطع؛ أبو الأشهب لا يروي عن أحد من الصحابة، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٢٩، والدولابي في الكنى ١/ ١٠٩، وبنحوه البخاري في الأوسط ٢/ ٣٨.