حدیث نمبر: 26719
٢٦٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أصبغ بن زيد قال: حدثنا أبو العلاء عن أبي أمامة قال: لبس عمر بن الخطاب ثوبًا جديدًا فقال: ⦗٥٤⦘ الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي، ثم قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من لبس ثوبًا جديدًا فقال: الحمد للَّه الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي، ثم (عمد) (١) إلى الثوب الذي (أخلق) (٢) أو قال: ألقى فتصدق به كان في كنف اللَّه وفي حفظ اللَّه وفي ستر اللَّه حيًا وميتًا"، قالها: ثلاثًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک نیا کپڑا پہنا، تو فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ کپڑا پہنایا جس کے ذریعہ میں اپنے ستر کو چھپاتا ہوں اور جس کے ذریعہ میں اپنی زندگی میں جمال حاصل کرتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا : میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا : ” جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ کہے : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَانِی مَا أُوَارِی بِہِ عَوْرَتِی ، وَأُجَمِّلُ بِہِ فِی حَیَاتِی ، پھر وہ اپنے پرانے، اتارے ہوئے کپڑے کو لے اور اس کو صدقہ کر دے تو یہ شخص اللہ کی رحمت ، حفاظت اور پردہ میں رہے گا ۔ زندگی میں بی اور موت کے بعد بھی “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کہی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (عهد).
(٢) في [أ، ح، ط]: (خلق).
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي العلاء، أخرجه أحمد (٣٠٥)، والترمذي (٣٥٦٠)، وابن ماجه (٣٥٥٧)، والحاكم ٤/ ١٩٣، والطبراني في الدعاء (٣٩٣)، والمزني ٣٤/ ١٥٧، وابن المبارك في مسنده (٢٢)، وعبد بن حميد (١٨)، والبيهقي في الشعب (٦٢٨٧)، وهناد في الزهد (٦٥٦)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٢٧٢)، وابن أبي الدنيا في الشكر (٧٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26719
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26719، ترقيم محمد عوامة 25596)