حدیث نمبر: 26702
٢٦٧٠٢ - (حدثنا) (١) أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن إبراهيم بن سعد عن (الزهري) (٢) عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن ابن عباس قال: كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم، وكان المشركون يفرقون رؤوسهم، وكان رسول اللَّه ﷺ يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر به، قال: فسدل رسول اللَّه ﷺ (ناصيته) (٣) ثم فرق بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا سدل کیا کرتے تھے اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالا کرتے تھے۔ جن کاموں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ ان کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی موافقت کو پسند کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے والے بالوں کو سدل یعنی کھلا چھوڑا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانگ نکالی۔

حواشی
(١) تكررت في: [ز].
(٢) في [ح، ط]: (الزبيري).
(٣) في [ط، هـ]: (ناصية).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩١٧)، ومسلم (٢٣٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26702، ترقيم محمد عوامة 25581)