حدیث نمبر: 26699
٢٦٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن عبد اللَّه بن أبي قتادة قال: مازح النبي ﷺ أبا قتادة قال: " (لأجزنّ) (١) جمتك"، (قال) (٢): لك مكانها استر فقال له بعد ذلك: "أكرمها"، فكان يتخذ لها بعد ذلك (السك) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت قتادہ سے مزاح کیا۔ فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہاری زلفیں کاٹ دوں گا۔ “ حضرت ابو قتادہ نے فرمایا : آپ کے لئے ان کی جگہ ایک قید ی ہے۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ان کا خیال کرو۔ “ چناچہ حضرت قتادہ اس کے بعد زلفوں کے لیے خاص خوشبو بنایا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (احذر)، وفي [ز]: (لآخذن)، وفي [ح]: (لاجذن).
(٢) في [جـ، ز]: (فقال).
(٣) السك نوع من الطيب، وفي [هـ]: (السد)، وفي [س]: (الشك)، وفي [ب]: (الشبك).