مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في المشي في النعل الواحدة من كرهه باب: ایک جوتے میں چلنے کے بارے میں، جو حضرات اس کو مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 26540
٢٦٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن (أبي) (١) رزين عن أبي هريرة، قال: خرج إلينا يضرب بيده (على) (٢) جبهته ثم قال: إنكم ⦗١٥⦘ تحدثون أني أكذب على رسول اللَّه ﷺ (٣) أشهد لسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا انقطع شسع أحدكم فلا يمش في الأخرى حتى يصلحها" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین، حضرت ابوہریرہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ہماری طرف اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ اپنا ہاتھ پیشانی پر مار رہے تھے اور فرمایا : تم لوگ یہ باتیں کرتے ہو کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولتا ہوں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سُنا ہے کہ ” جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اس (ٹوٹے تسمہ والے) کو ٹھیک کرلے۔ “
حواشی
(١) في [هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ط]: (حتى).
(٣) في [هـ]: زيادة (لتهتدوا وأضل).