٢٦٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد (عن) (١) عمرو (بن) (٢) شعيب عن أبيه عن جده قال: أقبلنا مع رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٣) وسلم من (ثنية) (٤) (أذاخر) (٥) فالتفت إليَّ وعليَّ (ريطة) (٦) (مضرجة) (٧) بالعصفر فقال: "ما هذه؟ "، فعرفت ما كره، فأتيت أهلي وهم يسجرون تنورهم، فقذفتها فيه، ثم آتيته من الغد فقال: "يا عبد اللَّه ما فعلت الريطة؟ " فأخبرته فقال: "ألا كسوتها بعض أهلك، فإنه لا بأس بذلك للنساء" (٨).حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں ہم لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اذاخر کی گھاٹی سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا۔ اور (اس وقت) مُجھ پر ایک گلاب کے رنگ سے کچھ تیز عصفر کی رنگی ہوئی چادر تھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ “ اس سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناپسندیدگی کو پہچانا، تو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا۔ وہ لوگ (اس وقت) تندور کو گرما رہے تھے۔ پس میں نے وہ چادر تندور میں پھینک دی۔ پھر میں دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” اے عبد اللہ ! چادر کا کیا ہوا ؟ “ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے وہ چادر اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہیں پہنا دی۔ کیونکہ عورتوں کے لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ “