مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من رخص في العلم من الحرير في الثوب باب: جو لوگ کپڑے میں ریشم میں سے نشانی لگانے کی اجازت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 26283
٢٦٢٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مغيرة بن (زياد) (١) عن أبي عمر (مولى) (٢) (أسماء) (٣) قال: (٤) رأيت ابن عمر اشترى عمامة لها علم، فدعا (بالجلمين) (٥) (فقصه) (٦)، فذكرت ذلك لها فقالت: (بؤسًا) (٧) لعبد اللَّه، يا جارية هاتِ جبة رسول اللَّه ﷺ فجاءت بجبة مكفوفة الكمين (والجيب) (٨) والفرجين بالديباج (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء کے مولیٰ حضرت ابو عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے عمامہ خریدا جس میں کوئی (ریشمی) نشانی تھی۔ پس انہوں نے قینچی منگوائی اور اس کو (نشانی کو) کاٹ دیا۔ میں نے یہ بات حضرت اسمائ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : عبد اللہ پر تعجب ہے۔ اے لونڈی ! جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جُبہ لے کر آؤ چناچہ وہ لونڈی ایک جُبہ لے کر آئی جس کے آستین ، گریبان ، چاک پر ریشم کا نشان لگا ہوا تھا۔
حواشی
(١) في [ز]: (زيد).
(٢) في [ز]: (مولًا).
(٣) في [أ]: (أسمى).
(٤) في [ز]: زائدة (قال).
(٥) أي: المقص، وفي [أ، ح، ز]: (بالعلمين)، وفي [هـ]: (بالفلمين).
(٦) في [أ، ط]: (فقصت).
(٧) في [أ، جـ، ح، ط]: (بوسٌ).
(٨) في [أ، ح]: (والجنب).