مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من رخص (في) لبس الحرير في الحرب إذا كان له عذر، (ومن كرهه) باب: جو حضرات دوران جنگ عذر والے شخص کو ریشم پہننے کی اجازت دیتے ہیں اور جو حضرات اس کوناپسند کرتے ہیں
٢٦٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن (حصين) (١) عن الشعبي عن سويد بن (غفلة) (٢) قال: شهدنا اليرموك، (قال) (٣): فاستقبلنا عمر وعلينا ⦗٤٨٨⦘ الديباج والحرير، فأمر (فرمينا) (٤) بالحجارة، قال: فقلنا: ما بلغه عنا؟ قال: فنزعناه، وقلنا: كره (زينًا) (٥)، فلما (استقبلنا) (٦) رجب بنا (وقال) (٧): إنكم جئتموني في زي أهل الشرك، إن اللَّه لم يرض لمن قبلكم الديباج و (لا) (٨) الحرير (٩).حضرت سوید بن غفلہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ یرموک میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوگیا۔ جبکہ ہم پر دیباج اور ریشم تھا تو حضرت عمر نے ہمیں پتھر مارنے کا حکم دیا۔ ہم نے (دل میں) کہا انہیں ہمارے طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ راوی کہتے ہیں پھر ہم نے اس لباس کو اتار دیا اور ہم نے کہا : انہیں ہماری ہیئت پسند نہیں آئی۔ پھر جب ہمارا سامنا حضرت عمر سے ہوا تو انہوں نے ہمیں مرحبا کہا اور فرمایا : تم لوگ میرے پاس (پہلے) اہل شرک کی ہیئت میں آئے تھے۔ یقینا اللہ تعالیٰ تم سے پہلوں کے لئے بھی دیباج اور ریشم سے راضی نہ تھے۔