مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من رخص (في) لبس الحرير في الحرب إذا كان له عذر، (ومن كرهه) باب: جو حضرات دوران جنگ عذر والے شخص کو ریشم پہننے کی اجازت دیتے ہیں اور جو حضرات اس کوناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 26274
٢٦٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الوليد ابن هشام قال: (كتبت) (١) إلى (ابن محيريز) (٢) (أسأله) (٣) عن لبس (اليلامق) (٤) والحرير في (دار) (٥) الحرب قال: فكتب أن كن أشد (ما) (٦) كانت كراهة (لما) (٧) (يكره) (٨) عند القتال حين تعرض نفسك للشهادة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ہشام سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن محیریز کو خط لکھا اور میں نے ان سے دارالحرب میں قباء اور ریشم پہننے کے بارے میں سوال کیا ؟ راوی کہتے ہیں پس انہوں نے لکھا جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو اس کو تم قتال کے وقت جبکہ تم اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش کرتے ہو اور زیادہ ناپسند کرو۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (كتب).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (محمد بن)، وفي [ز]: (محيريز).
(٣) في [ح]: (أسلمه).
(٤) في [ح، هـ]: (الملامق).
(٥) سقط من [هـ]: (دار).
(٦) في [أ، ح، ط، هـ]: (مما).
(٧) في [ط، هـ]: (لا).
(٨) في [جـ]: (تكره).