مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في لبس (الحرير) وكراهية لبسه باب: ریشم پہننے کے بارے میں اور اس کے پہننے میں کراہت کے بارے میں
حدیث نمبر: 26257
٢٦٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد) (١) بن سعيد (عن شعبة) (٢) عن ⦗٤٨٢⦘ خليفة بن كعب أنه قال: (قال) (٣): سمعت (عبد اللَّه) (٤) بن الزبير يخطب، قال: قال: ألا، لا (تلبسوا) (٥) نساءكم الحرير، فإني سمعت عمر بن الخطاب يقول: قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم: "لا تلبسوا الحرير فإنه من لبسه في (الدنيا) (٧) لم يلبسه في الآخرة" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلیفہ بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدا للہ بن زبیر کو خطبہ دیتے ہوئے سُنا۔ انہوں نے کہا خبردار ! تم اپنی عورتوں کو (بھی) ریشم نہ پہناؤ، کیونکہ میں نے حضر ت عمر بن خطاب کو کہتے سُنا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم ریشم نہ پہنو کیونکہ جو دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔ “
حواشی
(١) في [هـ]: (عبيدة).
(٢) سقط من: [أ، ح، ط].
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) في [ط]: زيادة (اللَّه).
(٥) سقط من: [ز]، وفي [ط]: (تلبسون).
(٦) في [أ]: زيادة (وآله).
(٧) في [أ]: (الدنى).