حدیث نمبر: 26251
٢٦٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد ويزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني عن عقبة بن عامر الجهني قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ المغرب وعليه فروج يعني (قباء) (١) من حرير، فلما قضى صلاته نزعه نزعًا عنيفًا، فقلت: يا رسول اللَّه! صليت وهو عليك، (قال) (٢): "أن هذا لا ينبغي للمتقين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز مغرب پڑھائی درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ریشم کی ایک قباء تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو انتہائی ترش روئی کے ساتھ اتار دیا۔ اس پر میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے (ابھی) نماز پڑھائی تب تو یہ آپ پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا متقین کے لئے یہ مناسب نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ح]: (قما).
(٢) في [ز]: (قفا).
(٣) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه أحمد (١٧٢٩٣)، والطبراني (١٧/ [٧٦٠])، وأخرجه بطريق آخر البخاري (٣٧٥)، ومسلم (٢٠٧٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26251
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26251، ترقيم محمد عوامة 25142)