مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في لبس (الحرير) وكراهية لبسه باب: ریشم پہننے کے بارے میں اور اس کے پہننے میں کراہت کے بارے میں
حدیث نمبر: 26250
٢٦٢٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (عبد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع أن ابن عمر (أخبره) (٢) أن عمر (٣) رأى حلة سيراء من (حرير) (٤) فقال: يا رسول اللَّه لو ابتعت هذه الحلة للوفد وليوم الجمعة (فقال) (٥): "إنما يلبس ⦗٤٨٠⦘ هذه من (لا) (٦) خلاق له في الآخرة" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب نے خالص ریشم کا ایک جوڑا دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر آپ یہ جوڑا وفود اور جمعہ کے لئے خرید لیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [ز]: (أخبرنا).
(٣) في [جـ، ز]: زيادة (بن الخطاب).
(٤) في [أ]: (جرير)، وفي [ز]: (خز).
(٥) في [ط، هـ]: (قال).
(٦) في [ط]: (ألا).