مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في لبس (الحرير) وكراهية لبسه باب: ریشم پہننے کے بارے میں اور اس کے پہننے میں کراہت کے بارے میں
٢٦٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة قال: حدثني هبيرة بن (يَرِيم) (١) عن علي أنه أهدي إلى رسول اللَّه ﷺ حلة مسيرة بحرير إما سداها أو (لحمتها) (٢)، فأرسل بها إلي، فأتيته فقلت (له) (٣): يا رسول اللَّه! ما أصنع بها، ألبسها؟ قال: "لا إني لا أرضى لك ما أكره لنفسي، ولكن أجعلها خمرًا بين الفواطم" (٤).حضرت ابو فاختہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہبیرہ بن یریم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریشمی تار کا ایک جوڑا … جس کا تانا یا بانا ریشم کا تھا … ہدیہ میں آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ جوڑا مجھے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) بھیج دیا پس میں (اس کو لے کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کا کیا کروں ؟ اس کو پہن لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ جو چیز میں اپنے لیئے پسند نہیں کرتا وہ تیرے لیئے بھی پسند نہیں کرتا۔ لیکن تم اس کپڑے کو فواطم … فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت حمزہ… کے درمیان دوپٹہ بنا کر تقسیم کردو۔