حدیث نمبر: 26135
٢٦١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن منذر عن الربيع بن (خثيم) (١) أنه قال لأهله: اصنعوا لي خبيصًا، قال: فصنعوا فدعا رجلا كان به خبل قال: فجعل الربيع (٢) يلقمه ولعابه يسيل، فلما أكل وخرج، قالت له أهله: تكلفنا وصنعنا فيه أطعمته ما (يدري) (٣) هذا ما أكل؟ قال الربيع: لكن اللَّه يدري.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم میرے لیے کھجور اور گھی کا حلوہ تیار کرو۔ راوی کہتے ہیں۔ گھر والوں نے یہ تیار کردیا۔ پھر انہوں نے ایک ایسے آدمی کو بلایا جس کو دیوانگی تھی۔ تو حضرت ربیع نے اس کو لقمہ بنا کر کھلانا شروع کیا حالانکہ اس کا تھوک بہہ رہا تھا۔ چناچہ جب اس نے کھانا کھالیا اور چلا گیا تو حضرت ربیع سے ان کی گھر والی نے کہا۔ ہم نے اس حلوہ کو بنانے میں اس قدر تکلف کیا اور آپ نے اس کو کھلا دیا ؟ اس کو کیا معلوم کہ اس نے کیا کھایا ہے ؟ حضرت ربیع نے جواب دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ح]: (خيثم).
(٢) في [أ، ح]: زيادة (يقول).
(٣) في [أ، ح، ط]: (تدري).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26135، ترقيم محمد عوامة 25028)