مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأطعمة
الرجل يشتري (اللحم لأهله) باب: جو شخص اپنے اہل خانہ کے لئے گوشت خریدتا ہے
حدیث نمبر: 26121
٢٦١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (علية) (١) عن رجاء بن أبي سلمة قال: كان عمر بن عبد العزيز (يصنع) (٢) طعاما يحضره فلا يأكل منه فلا يأكلون، فقال: ما (شأنهم) (٣) لا يأكلون؟ فقالوا: إنك (لم) (٤) تأكل فلا يأكلون، (٥) فأمر بدرهم كل يوم من صلب ماله (فأنفقها) (٦) في الطبخ، فأكل وأكلوا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کھانا بنایا کرتے تھے۔ (ان کے لئے) جو ان کے پاس حاضر ہوتے، لیکن حضرت عمر نے اس سے نہیں کھایا تو لوگوں نے بھی نہیں کھایا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے پوچھا، تمہیں کیا ہوا ہے کہ یہ لوگ کھاتے نہیں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ نے نہیں کھایا تو انہوں نے بھی نہیں کھایا ۔ چناچہ آپ نے اپنے خاص مال سے روزانہ کی بنیاد پر ایک درہم کا حکم دیا جس کو پکانے میں خرچ کیا جاتا تھا پھر آپ نے بھی کھانا کھایا اور دیگر لوگوں نے بھی کھایا۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (عيينة).
(٢) في [هـ]: (يضع).
(٣) في [ز]: (شأنكم).
(٤) في [جـ، ز]: (لا).
(٥) في [جـ]: زيادة (قال).
(٦) في [جـ]: (نفقها).