حدیث نمبر: 26112
٢٦١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن حصين قال: قدم خالد بن الوليد ها هنا إذا هو (بمسلحة) (٢) لآل فارس عليهم رجل يقال له: هزار مرد، قال: فذكروا من (عظم) (٣) خلقه وشجاعته، قال: فقتله خالد بن الوليد ثم دعا بغدائه فتغدى وهو متكئ على (جيفته) (٤) يعني جسده (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید ، یہاں پر تشریف لائے تو آپ کا گزر اہل فارس کی ایک چوکی پر ہوا جہاں ان پر ایک مرد نگران تھا جس کو ” ہزار مرد “ کہا جاتا تھا۔ راوی کہتے ہیں پس لوگوں نے اس کی جسامت کا حجم اور اس کی شجاعت کا ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں، حضرت خالد بن ولید نے اس کو قتل کردیا پھر آپ نے ناشتہ منگوایا اور آپ نے اس کے مردار جسم پر تکیہ لگائے ہوئے ناشتہ کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (هشام).
(٢) في [هـ]: (بمسلمة)، والمسلحة الفرقة التي معها سلاح.
(٣) في [ط، هـ]: (أعظم).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (جثته).
(٥) منقطع؛ حصين لم يدرك خالدًا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26112، ترقيم محمد عوامة 25005)