حدیث نمبر: 26105
٢٦١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الجريري عن أبي الورد عن (ابن) (١) (أعبد) (٢) أو ابن معبد قال: قال علي: (تدري) (٣) ما حق الطعام؟ قلت: وما حقه؟ قال: تقول بسم اللَّه اللهم بارك لنا فيما رزقتنا (٤)، قال: تدري (ما) (٥) شكره؟ (قال) (٦): قلت وما شكره؟ قال: تقول [الحمد للَّه الذي أطعمنا وسقانا (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن اعبد … یا ابن معبد … سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تمہیں پتہ ہے کہ کھانے کا حق کیا ہے ؟ میں نے پوچھا : اس کا کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ بسم اللہ ! اے اللہ ! جو کچھ آپ ہمیں رزق دیں اس میں برکت (بھی) دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جانتے ہو کہ کھانے کا شکر کیا ہے ؟ میں نے پوچھا۔ اس کا شکر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا اور ہمیں پلایا اور جس نے ہمیں مسلمان بنایا۔

حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (عبد)، وفي [ح]: (عيد).
(٣) في [جـ]: (تدرون).
(٤) في [هـ]: زاد (ثم).
(٥) في [ز]: (وما)، وتكررت في [ح]: (ما).
(٦) في [ز]: زيادة (قال).
(٧) مجهول؛ لجهالة ابن أعبد، أخرجه عبد اللَّه في زوائد المسند (١٣١٣)، والطبراني في الدعاء (٢٣٥)، وسيأتي ١٠/ ٣٤٣ برقم [٣١٥٤٢].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26105
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26105، ترقيم محمد عوامة 24997)