حدیث نمبر: 26082
٢٦٠٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن (معدان) (١) بن أبي طلحة أن عمر بن الخطاب قال: إنكم لتأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين. هذا الثوم وهذا البصل، كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى يخرج إلى البقيع، فمن كان آكلهما (لا بد) (٢) فليمتهما طبخًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ارشاد فرمایا۔ تم لوگ دو درخت ایسے کھاتے ہو جن کو میں گندا سمجھتا ہوں۔ یہ تھوم اور پیاز ہے۔ میں تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اس آدمی کو دیکھتا کہ جس سے اس کی بُو آتی ہوتی تھی کہ اس کو ہاتھ سے پکڑا جاتا اور اس کو بقیع کی طرف باہر نکال دیا جاتا۔ پھر بھی تم میں سے جو اس کو ناگزیر طور پر کھائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان (کی بو) کو پکا کر مار ڈالے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (سعد)، وفي [ز]: (سعيد)، وفي [جـ]: (سعدان).
(٢) في [ز]: (فلا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26082
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26082، ترقيم محمد عوامة 24976)