٢٦٠٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سليمان) (١) بن المغيرة عن حميد ابن هلال عن أبي بردة عن المغيرة (بن) (٢) شعبة قال: أكلت ثوما ثم أتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته قد سبقني بركعة، فلما صلى قمت أقضي، (فوجد) (٣) الريح فقال: "من أكل (من) (٤) هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا حتى يذهب ريحها"، قال المغيرة: فلما قضيت الصلاة أتيته فقلت: يا رسول اللَّه! إن لي عذرًا، ناولني يدك، قال: فوجدته واللَّه سهلًا، فناولني يده (فأدخلها) (٥) إلى صدري فوجده معصوبًا، فقال: "إن لك عذرا" (٦).حضرت مغیر ہ بن شعبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے تھوم کھایا پھر میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے پہلے ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ چناچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میں کھڑا ہوا اور اپنی رہ جانے والی رکعت پڑھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بُو محسوس کی تو فرمایا : ” جو شخص اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۔ جب تک اس کہ اس کی بُو نہ چلی جائے۔ “ حضرت مغیرہ کہتے ہیں : پس جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی عُذر ہے۔ آپ مجھے اپنا ہاتھ عنایت فرمائیں۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں ۔ بخدا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم پایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ تھما دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو اپنے سینہ کی طرف لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پٹی باندھی ہوئی محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یقینا تمہارے لیئے یہ عذر ہے۔ “