٢٦٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي بردة أن النبي ﷺ وجد من المغيرة ريح ثوم فقال: "ألم أنهكم عن هذه الشجرة؟ " فقال: يا رسول اللَّه أقسمت عليك (لتدخلن) (١) يدك، (قال) (٢): وعليه ⦗٤٣١⦘ جبة أو قميص، فأدخل يده فإذا (على صدره) (٣) (عصاب) (٤) فقال: " (٥) أرى لك عذرًا" (٦).حضرت ابی بردہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مغیرہ سے تھوم کی بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ؟ “ تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو قسم ہے کہ آپ اپنے ہاتھ کو (جُبہ یا قمیص میں) ضرور داخل کریں گے۔ اور ان پر (اس وقت) جُبہ یا قمیص تھی … چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا تو ان پر پٹی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیئے عذر ہے۔ “