٢٦٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جعفر (الرازي) (١) عن الربيع عن أبي العالية عن سويد غلام (كان لسلمان) (٢) وأثنى عليه خيرًا قال: لما افتتحنا المدائن خرج الناس في طلب العدو، قال: قال سلمان: وقد أصبنا (سلة) (٣)، فقال: افتحوها فإن كان طعامًا أكلناه، وإن كان مالا دفعناه إلى هؤلاء، قال: (ففتحناها) (٤) فإذا أرغفة حُوّارى (٥)، وإذا جبنة وسكين قال: وكان أولَ ما رأت العرب (الحواري) (٦)، فجعل سلمان يصف لهم كيف يعمل، ثم أخذ السكين وجعل يقطع وقال: بسم اللَّه كلوا (٧).حضرت سوید سے روایت ہے …یہ حضرت سلمان کے غلام تھے اور ان کی اچھی تعریف کرتے تھے … وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے مدائن کو فتح کرلیا تو لوگ دشمن کی تلاش میں نکلے… اس دوران ہمیں ایک ٹوکری ملی۔ اسے دیکھ کر حضرت سلمان نے کہا کہ اگر اس میں کھانا ہے تو ہم اسے کھائیں گے، اگر مال ہے تو ہم انہیں واپس دیں گے۔ جب ہم نے اسے کھولا تو اس میں خاص قسم کی کچھ روٹیاں، پنیر اور چھری تھی۔ یہ چیز عربوں نے پہلی بار دیکھی تھی۔ حضرت سلمان نے لوگوں کو بتایا کہ یہ کیسے بنائی جاتی ہیں پھر انہوں نے چھری سے اسے کاٹا او فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔