حدیث نمبر: 25951
٢٥٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن الرُّكين عن عصمة بن ربعي قال: قدمنا على عمر (ونحن) (١) أناس سمان حسنة هيئتنا، قال: فقال: ما طعامكم؟ قلنا: الضباب، قال: فقال عمر: ويجزيكم؟ قلنا: نعم، (فقال) (٢): وددت أن مع كل (ضب) (٣) مثله (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عصمہ بن ربعی سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ہم کچھ لوگ تھے جن کی حالت بہت اچھی تھی۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے پوچھا۔ تمہاری خوراک کیا ہے ؟ ہم نے کہا : گوہ۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : وہ تمہں ا کفایت کر جاتی ہے۔ ہم نے کہا : جی ہاں ! اس پر آپ نے فرمایا : مجھے یہ بات محبوب ہے کہ ہر ایک گوہ کے ساتھ اس کا مثل (ایک اور گوہ) ہو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (نحن).
(٢) في [ز]: (قال).
(٣) في [ط]: (ضبه).
(٤) مجهول؛ لجهالة عصمة بن ربعي.
(٥) في [هـ]: زاد الحديث الآتي: حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن زيد ابن وهب عن ثابت بن يزيد الأنصاري قال: كنا مع النبي ﷺ فأصاب الناس ضبابا فاشتووها فأكلوا، منها فأصبت منها ضبا فشويته، ثم أتيت به النبي ﷺ، فأخذ جريدة فجعل يعد بها أصابعه فقال: إن أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض، وإني لا أدري لعلها هي، فقلت: إن الناس قد اشتووها، فأكلوها، فلم يأكل، ولم ينه، والحديث أخرجه أحمد (١٧٩٣١)، وأبو داود (٣٧٩٥)، وابن ماجه (٣٢٣٨)، وابن سعد ١/ ٣٩٥، والطحاوي في شرح الكوكب (٣٢٣٧)، والطبراني (١٣٦٧)، والنسائي ٧/ ١٩٩، وسبق طرفه برقم [٢٥٩٣٣].