حدیث نمبر: 25937
٢٥٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن يزيد بن الاسم قال: دعانا عروس بالمدينة، فقرب إلينا ثلاثة عشر ضبا، فآكلٌ وتاركٌ، فلقيت ابن عباس من الغد فأخبرته، فأكثر القوم حوله حتى قال بعضهم: قال رسول اللَّه ﷺ (١): " (لا آكله) (٢) ولا أنهى عنه، ولا أحله ولا أحرمه"، فقال ابن عباس: (فبئسما) (٣) قلتم، إنما بعث رسول اللَّه ﷺ محلًا ومحرمًا (٤) بينما هو عند ميمونة وعنده الفضل بن عباس وخالد بن الوليد وامرأة أخرى، إذ قرب إليهم خوان عليه لحم، فلما أراد رسول اللَّه ﷺ أن يأكل، قالت له ميمونة: إنه لحم ضب، فكف يده وقال: "إن هذا اللحم لم آكله قط" وقال لهم: "كلوا" فأكل منه الفضل ابن عباس وخالد بن الوليدل والمرأة، وقالت ميمونة: لا آكل إلا من شيء يأكل منه رسول اللَّه ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مدینہ میں ایک ولیمہ میں دعوت تھی۔ ہمیں تیرہ عد د گوہ پیش کی گئیں۔ پس کچھ لوگوں نے کھا لیں اور کچھ نے نہ کھائیں۔ پھر میں اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور میں نے انہیں یہ بات بتائی۔ بہت سے لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے گرد تھے ان میں سے کچھ نے کہا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں، میں اس کو حلال کرتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “ اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم نے بُری گفتگو کی ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو بعثت ہی حلال اور حرام کرنے والے کے طور پر ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت میمونہ کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حضرت فضل بن عباس، حضرت خالد بن ولید اور ایک دوسری عورت بھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دسترخوان بڑھایا گیا جس پر گوشت تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس کو) کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یہ گوہ کا گوشت ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا۔ ” میں یہ گوشت کبھی نہیں کھاؤں گا “۔ اور لوگوں سے کہا۔ ” تم کھاؤ۔ “ چناچہ حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے (اس کو) کھایا۔ اور حضرت میمونہ نے فرمایا : میں تو اس چیز کو کھاؤں گی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائیں گے۔

حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ط]: (للالكه).
(٣) في [ط]: (فسئل).
(٤) في [هـ]: زيادة (إن رسول اللَّه ﷺ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25937
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٤٨)، وأحمد (٢٦٨٤)، وأصله في البخاري (٢٥٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25937، ترقيم محمد عوامة 24834)