٢٥٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن يزيد بن الاسم عن ميمونة زوج النبي ﷺ قالت: أهدي لنا ضب (فصنعته) (١) فدخل (عليها) (٢) رجلان من قومها فأتحفتهما به، فدخل رسول اللَّه ﷺ (٣) وهما (يأكلان) (٤) فوضع يده ثم رفعها (فقال: "ما هذا؟ " قالت: ضب أهدي لي فصنعته فطرحه فذهبا) (٥) (ليطرحا) (٦) ما في أيديهما فقال ﷺ (٧): "كلا فإنكما أهل نجد تأكلونها، وإنا أهل (المدينة) (٨) نعافها" (٩).جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمیں ہدیہ میں ایک گوہ دی گئی۔ میں نے اس کو تیار کیا۔ پھر حضرت میمونہ کے پاس ان کی قوم کے دو افراد آئے تو حضرت میمونہ نے یہ گوہ ان کو تحفۃً پیش کردی۔ اس دوران جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر تشریف لائے جبکہ یہ دونوں حضرات (اس کو) کھا رہے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک رکھا پھر اس کو اٹھا لیا۔ اس پر ان دونوں کے ہاتھ میں جو لقمہ تھا اس کو انہوں نے نیچے رکھ دیا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : ” تم کھاؤ۔ کیونکہ تم دونوں اہل نجد ہو۔ تم اس کو کھاتے ہو۔ لیکن ہم اہل مدینہ ہیں۔ ہمیں اس سے گھن آتی ہے۔ “