حدیث نمبر: 25857
٢٥٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن هشام (بن) (١) زيد بن أنس عن أنس قال: سمعته يقول: أنفجنا أرنبا بمر الظهران فسعى (عليها) (٢) الغلمان حتى لغبوا (٣) ثم (أدركتها) (٤) فأتيت بها أبا طلحة فذبحها، ثم بعث معي إلى النبي ﷺ بوركها فقبلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام بن زید بن انس، حضرت انس کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں یہ کہتے سُنا۔ ہم نے مرا الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو بدکا کر باہر نکالا۔ پس اس کے پیچھے بچے دوڑ پڑے یہاں تک کہ بچے بہت تھک گئے پھر میں نے اس کو (خرگوش کو) پکڑ لیا اور میں اس کو لے کر حضرت ابو طلحہ کے پاس گیا پس انہوں نے اس کو ذبح کردیا۔ اور پھر اس کی سرین دے کر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول فرما لیا۔ بخاری ٢٥٧٢۔ مسلم ٥٣

حواشی
(١) في [ز]: (عن).
(٢) في [ز]: زائدة (عليها).
(٣) في [هـ، ط]: زيادة (به).
(٤) في [أ، جـ، ح، ط]: (أدركها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25857
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٧٢)، ومسلم (١٩٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25857، ترقيم محمد عوامة 24759)