مصنف ابن ابي شيبه
كتاب العقيقة
في العقيقة كم عن الغلام وكم عن الجارية باب: عقیقہ کے بارے میں، بچہ کی طرف سے کتنے اور بچی کی طرف سے کتنے (جانور)
حدیث نمبر: 25822
٢٥٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أسلم عن عطاء أن أم السباع سألت رسول اللَّه ﷺ أعق عن (أولادي) (١) قال: "نعم عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ام السباع نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ کیا میں اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہاں۔ “ بچہ کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “
حواشی
(١) في [ز]: (ولدي).