مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل إذا رفع رأسه من الركوع ما يقول باب: رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہئے؟
٢٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معتمر بن سليمان عن برد: أن (مكحولا) (١) كان يقول إذا رفع رأسه من الركوع: اللهم ربنا لك الحمد ملء السماء، وملء الأرض، وملء ما شئت من شيء بعد، أهل الثناء (والمجد) (٢)، وخير ما قال العبد، وكلنا لك عبد، لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد.حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ اور تیری تعریف ان بہترین کلمات کے ساتھ جب بندے کہتے ہیں اور ہم سب تیرے بندے ہیں۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔