مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل إذا رفع رأسه من الركوع ما يقول باب: رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہئے؟
٢٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي بكير عن (شريك) (١) عن (أبي عمر) (٢) عن (أبي جحيفة) (٣): أن النبي ﷺ (قام) (٤) في الصلاة فلما رفع رأسه من الركوع قال: "سَمِعَ اللَّهُ لمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ ربَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الأَرْض، وَمِلْءَ مَا شئْتَ مِنْ شَيْء (بَعْدُ) (٥)، لَا مَانِعَ لِمَا أعطيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنفَع ذا الجَدِّ مِنْكَ الْجَدَّ". يمد بها صوته (٦).حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے : اللہ نے سن لیا اس کو جس نے اللہ کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انہیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ کلمات کہتے ہوئے آپ آواز بلند کیا کرتے تھے۔