مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يطبق يديه بين فخذيه باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
٢٥٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم قال: دخل الأسود وعلقمة على عبد اللَّه فقال عبد اللَّه: صلى هؤلاء بعد؟ قالا: لا، قال: فقوموا فصلوا، ولم يأمر بأذان ولا إقامة، وتقدم (هو) (١) فصلى بنا، فذهبنا نتأخر فأخذ بأيدينا فأقامنا معه، فلما ركعنا وضع الأسود يديه على ركبتيه، فنظر عبد اللَّه فأبصره فضرب يده، فنظر الأسود فإذا يدا عبد اللَّه بين ركبتيه وقد خالف (بين) (٢) أصابعه، فلما قضى الصلاة قال: إذا كنتم ثلاثة فليؤمكم أحدكم، وإذا ركعت فافرش ذراعيك فخذيك، فكأني انظر إلى اختلاف أصابع النبي ﷺ وهو راكع، ثم قال: (إنه) (٣) سيكون أمراء يميتون الصلاة (شَرَقَ الموْتَى) (٤)، وإنها صلاة من هو شر من حمار، وصلاة من لا يجد بدا، فمن أدرك ذلك منكم فليصل الصلاة لميقاتها، ولتكن صلاتكم معهم سبحة، فقلت لإبراهيم: كان علقمة والأسود ⦗٤٢⦘ يفعلان ذلك؟ قال: نعم، قلت لإبراهيم: تفعل أنت ذلك؟ قال: نعم، قلت: إن الناس يضعون أيديهم على ركبهم (٥). - فقال إبراهيم: سمعت أبا معمر يقول: رأيت عمر يضع يديه على ركبتيه (٦).ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ حضرت عبد اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ان دونوں نے کہا نہیں۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو، انہوں نے نہ اذان کا حکم دیا اور نہ اقامت کا۔ پھر وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم پیچھے ہٹنے لگے تو انہوں نے ہمیں پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کرلیا۔ جب ہم نے رکوع کیا تو اسود نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دیئے۔ جب حضرت عبد اللہ نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں پر مارا۔ اسودنے دیکھا کہ حضرت عبد اللہ کے دونوں ہاتھ ان کے گھٹنوں کے درمیان تھے اور انہوں نے اپنی انگلیوں کو کھول رکھا تھا۔ جب حضرت عبد اللہ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا ” جب تم تین ہو تو تم میں سے ایک آدمی نماز پڑھائے، جب تم رکوع کرو تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لو، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھول کر رکھا کرتے تھے اور یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نماز کو مردہ کردیں گے۔ وہ ایسی نماز ہوگی جو گدھے سے زیادہ بری ہوگی اور اس نماز کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جب تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پالے تو اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرلے۔ اور ان کے ساتھ محض نفل کے طورپر شریک ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اس کے بعد پھر حضرت اسود اور حضرت علقمہ یونہی کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے ہیں۔ ابراہیم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو معمر کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کرتے تھے۔