مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يتم التكبير ولا ينقصه (في كل رفع وخفض) باب: جو حضرات تمام اعمال میں تکبیر کہا کرتے تھے
حدیث نمبر: 2513
٢٥١٣ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن (بريد) (١) بن أبي مريم عن أبي موسى قال: صلى بنا علي يوم الجمل (صلاة) (٢) ذكرنا بها صلاة رسول اللَّه ﷺ، فإما أن نكون نسيناها، وإما أن نكون تركناها عمدًا، يكبر في كل رفع وخفض وقيام وقعود ويسلم عن يمينه ويساره (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے جنگ جمل میں ہمیں نماز پڑھائی اور یہ بھی فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسی نماز پڑھا کرتے تھے۔ پھر یا تو ہم اسے بھول گئے یا ہم نے اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا۔ انہوں نے یوں نماز پڑھائی کہ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے اور قیام وقعود کے وقت اللہ اکبر کہا۔ اور انہوں نے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا۔
حواشی
(١) في [أ، ك، هـ]: (يزيد).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس، وأخرجه أحمد (١٩٤٩٨)، وابن ماجه (٩١٧)، والبزار (٥٣٥/ كشف)، والطحاوي ١/ ٢٢١، والدارقطني في العلل ٧/ ٢٢٤.