حدیث نمبر: 2478
٢٤٧٨ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن سفيان عن الأسود قال: سمعت عمر افتتح الصلاة وكبر، فقال: سبحانك اللهم وبحمدك، (و) (١) تبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك ثم (تعوذ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو سنا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہا، پھر یہ کلمات کہے : اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے بعد آپ نے تعوذ پڑھی۔

حواشی
(١) سقط من: [ب، جـ، ك].
(٢) في [أ]: (يتوضأ)، وفي [ب، جـ]: (يتعوذ)، وفي [ك] (يعوذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2478
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2478، ترقيم محمد عوامة 2471)