مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة باب: جو حضرات تکبیر تحریمہ کے علاوہ بھی رفع یدین کے قائل ہیں
٢٤٥٩ - حدثنا هشيم قال: أنا عبد الحميد بن جعفر الأنصاري عن محمد بن عمرو بن عطاء (القرشي) (١) قال: رأيت أبا حميد الساعدي مع عشرة رهط من أصحاب النبي ﷺ، فقال: ألا أحدثكم عن صلاة النبي ﷺ؟ قالوا: هات، قال: (رأيته) (٢) إذا كبر عند فاتحة الصلاة رفع يديه، وإذا ركع رفع يديه، وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه، ثم يمكث (قائمًا) (٣) حتى يقع كل عظم في موضعه، ثم يهبط ساجدًا ويكبر (٤).حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید ساعدی کو دس اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں تمہارے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ نماز نہ بیان کروں ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جب نماز شروع کرنے کے لئے تکبیر تحریمہ کہی تو ہاتھ اٹھائے، جب رکوع میں گئے تو ہاتھ اٹھائے، جب رکوع سے سر اٹھایا تو ہاتھ اٹھائے، پھر اتنی دیر کھڑے ہوئے کہ ہر ہڈی میں اعتدال آگیا پھر آپ سجدے کے لئے تکبیر کہتے ہوئے جھکتے چلے گئے۔