٢٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سويد بن عمرو الكلبي قال: نا عبد العزيز ابن أبي سلمة قال: أنا الماجشون (عمي) (١) عن الأعرج عن عبيد اللَّه بن أبي رافع عن علي قال: كان النبي ﷺ إذا افتتح الصلاة كبر، ثم قال: "وَجهْتُ وَجْهِي للذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حنيفًا وَمَا أَنَا مِنَ المُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنسُكي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتي للَّهِ رَبِّ الْعَالَمينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبذَلِكَ أمِرْتُ، وَأنَا أوَّلُ المُسْلِمِين. اللَّهُمَّ ⦗١١⦘ أَنْتَ الملكُ لَا إلَهَ إلَا أْنتَ، (أنْتَ رَبِّي) (٢) وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعتُرفْتُ بِذَنْبي فَاغْفِرْ لِي ذنُوبي جَميعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلا أَنْتَ، وَاهْدِني لأَحْسْنِ الأَخْلاقِ (فَلَا يَهْدِي) (٣) لأَحْسَنها إلا أنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا (فَلَا) (٤) يَصْرِفُ (عَنِّي) (٥) سِيِّئهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالخْيَرُ كُلُّهُ في يَدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفرُكَ وَأَتُوبُ إلَيْكَ" (٦).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات ارشاد فرماتے : میں نے اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف پھیر لیا جس نے زمینوں اور آسمانوں کو وجود بخشا ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسلام لانے والوں میں ابتداء کرنے والا ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے سارے گناہوں کو معاف فرما دے، یقینا تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کر سکتا۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا اچھے اخلاق کی ہدایت کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے برے اخلاق سے محفوظ فرما تیرے سوا مجھے برے اخلاق سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھ کر حاضر ہوں۔ ساری کی ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، میرا سہارا اور مرجع تو ہی ہے، تو بابرکت ہے اور تو بلند ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔