٢٠٧٢١ - حدثنا جرير عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن عطية مولى بني عامر عن يزيد بن بشر السكسكي قال: (قدمت) (١) المدينة (فدخلت) (٢) على ⦗١٣١⦘ عبد اللَّه ابن عمر فأتاه رجل من أهل العراق فقال: يا عبد اللَّه بن عمر! ما لك تحج و (تعتمر) (٣) وقد تركت الغزو في سبيل اللَّه؟ قال: ويلك إن الإيمان بني على خمس: تعبد اللَّه (وتقيم) (٤) الصلاة (وتؤتي) (٥) الزكاة وتحج وتصوم رمضان [قال: (فردها) (٦) عليَّ، فقال: يا عبد اللَّه، تعبد اللَّه وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج وتصوم رمضان] (٧) كذلك (قال) (٨) لنا رسول اللَّه ﷺ (ثم) (٩) الجهاد حسن (١٠).حضرت یزید بن بشر سکسکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ان کے پاس ایک عراقی شخص آیا اور اس نے کہا کہ اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ! کیا بات ہے آپ حج اور عمرہ تو کرتے ہیں لیکن آپ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چھوڑ دیا ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیرا ناس ہو ! ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ کہ تو اللہ کی عبادت کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ باتیں مجھے دوبارہ بتائیں ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندے ! تو اللہ کی عبادت کر، نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کر، حج کر اور رمضان کے روزے رکھ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یونہی فرمایا ہے، ان کے بعد پھر جہاد اچھا عمل ہے۔