حدیث نمبر: 20681
٢٠٦٨١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الزبير بن عدي عن الشقيق بن (العيزار) (١) قال: سألت ابن الزبير (عن) (٢) (الجعائل) (٣) (فقال) (٤): (إن أخذتها) (٥) (فأنفقها) (٦) في سبيل اللَّه، وتركها أفضل (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تمہیں مل جائے تو اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور نہ لو تو بہتر ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو فرمایا کہ میں تو بغیر محنت کے وہی چیز لیتا ہوں جو اللہ مجھے دیتا ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (العرار)، وفي [هـ]: (العزار).
(٢) في [ز، ك]: (على).
(٣) في [ط]: (الجعافل).
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) في [ط]: (إن خذتها)، وفي [ب]: (إذا أخذتها).
(٦) في [س]: (فأنفقتها).
(٧) مجهول؛ الشقيق مجهول، أخرجه البيهقي ٩/ ٢٧، وعبد الرزاق (٩٤٦٠).