حدیث نمبر: 20678
٢٠٦٧٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نميرنا هشام بن سعد قال: حدثني قيس بن بشر (التغلبي) (١) قال: كان أبي (جليسًا) (٢) لأبي الدرداء بدمشق، وكان بدمشق رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ يقال له ابن (الحنظلية) (٣) من الأنصار، وكان الرجل متوحدًا، (قل) (٤) ما يجالس الناس، إنما هو يصلي فإذا انصرف فإنما هو تسبيح وتهليل حتى يأتي أهله، (فمر بنا) (٥) ذات يوم ونحن (عند) (٦) أبي الدرداء فسلم فقال له أبو الدرداء: (كلمة) (٧) تنفعنا ولا تضرك! قال: قال رسول اللَّه ﷺ: ["المنفق على الخيل في سبيل اللَّه كباسط يديه بالصدقة لا يقبضها"، ثم مر بنا يومًا آخر، فسلم، فقال أبو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا تضرك، قال: قال رسول اللَّه ﷺ] (٨): ⦗١١٦⦘ "إنكم قادمون على (إخوانكم) (٩)، (فأصلحوا) (١٠) (رحالكم) (١١) وأصلحوا لباسكم حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس فإن اللَّه لا يحب الفُحش (ولا) (١٢) التفحش" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس بن بشر تغلبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ دمشق میں ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نام کے ایک گوشہ نشین انصاری صحابی بھی موجود تھے۔ وہ لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہوتے تو تسبیح و تہلیل کرتے اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ وہ ہمارے پاس سے گذرے ، ہم حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے سلام کیا تو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس کے بتانے سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے پر خرچ کرنے والا ایسا ہے جیسے صدقہ کو مسلسل بلا روکے جاری رکھنے والا۔ پھر وہ ایک دن ہمارے پاس سے گذرے اور سلام کیا تو حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنی ہو تو اپنی سواریاں اور اپنا لباس درست کرلیا کرو تاکہ لوگوں میں بیٹھے ہوئے برے نہ لگو۔ اللہ تعالیٰ برے کام کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

حواشی
(١) في [جـ، س، ز، ط، ك]: (الثعلبي)، وفي [هـ]: (التغلي)، وفي [أ، ب]: (التغلمي).
(٢) في [ط]: (جلسًا).
(٣) في [ط]: (الحيطليه).
(٤) في [ك]: (قبل).
(٥) تكرار في [أ، ب]: (فمر بنا).
(٦) في [ط]: (عز).
(٧) في [ك]: (أكلمة).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب، س، ز، ط، ك، هـ].
(٩) في [جـ]: (أخوالكم).
(١٠) في [س]: (وأصلحوا).
(١١) في [أ، ط، هـ]: (رجالكم)، وفي [ب]: (أرحالكم).
(١٢) سقط من: [هـ].
(١٣) مجهول؛ لجهالة بشر التغلبي، أخرجه أحمد (١٧٦٢٢)، وأبو داود (٤٠٨٩)، والحاكم ٢/ ٩١ و ٤/ ١٨٣، وابن المبارك في الزهد (٨٥٣)، والطبراني (٥٦١٦)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٢٠٤)، والمزي ٤/ ١٤٣، وابن عساكر ١٠/ ٢٥٠.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20678
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20678، ترقيم محمد عوامة 19873)