٢٠٦٧٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن أول رجل سل سيفًا في سبيل اللَّه الزبيز (١) [(نفح) (٢) نفحة (من الشيطان) (٣)] (٤) (٥): أخذ رسول اللَّه (٦) فخرج الزبير يشق الناس بسيفه ورسول اللَّه ﷺ (٧) بأعلى (مكة) (٨) قال: فلقي النبي ﷺ فقال: "مالك يا زبير؟ " (قال) (٩): أخبرت أنك أخذت؟ قال: فصلى عليه ودعا له ولسيفه (١٠).حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں سب سے پہلا تلوار چلانے والے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی کہ حضور ﷺ کو کافروں نے گرفتار کرلیا ہے، اس پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تلوار پکڑ کر لوگوں میں سے گذرتے ہوئے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی حصہ میں تھے، ملاقات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پوچھا کہ اے زبیر ! کیا ہوا ؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھے خبر ملی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں نے پکڑ لیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے انہیں دعا دی اور ان کی تلوار کے لیے بھی دعا فرمائی۔