حدیث نمبر: 20673
٢٠٦٧٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن الشعبي عن مسروق قال: إن (الشهداء) (١) ذكروا عند عمر بن الخطاب قال: فقال عمر للقوم: ما ترون الشهداء؟ قال القوم: يا أمير المؤمنين! هم (من) (٢) يقتل في هذه (المغازي) (٣) قال: فقال (عمر) (٤) عند ذلك: إن شهداءكم (إذن) (٥) (لكثير) (٦)، إني أخبركم عن ذلك أن الشجاعة (والجبن) (٧) غرائز في الناس، يضعها اللَّه حيث يشاء، فالشجاع يقاتل من وراء من لا يبالي أن لا يؤوب إلى أهله، والجبان فار عن (حليلته) (٨)، ولكن الشهيد من احتسب بنفسه، والمهاجر من هجر ما نهى اللَّه عنه، والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ شہداء کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : کہ تم شہداء کن لوگوں کو سمجھتے ہو ؟ حاضرین نے کہا اے امیر المؤمنین ! جو جنگوں میں مارے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو تمہارے شہید اور بہت زیادہ ہوجائیں گے۔ میں تمہیں شہداء کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بہادری اور بزدلی یہ لوگوں میں موجود خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ جس میں چاہتا ہے رکھتا ہے۔ بہادر آدمی اس بات کی پرواہ کیے بغیر قتال کرتا ہے کہ اس کے پیچھے والوں کا کیا ہوگا۔ بزدل اپنی موت سے بھاگتا ہے، شہید اپنی جان کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کردہ امور کو چھوڑ دے اور مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

حواشی
(١) في [ط]: (للشهداء).
(٢) في [هـ]: (ممن).
(٣) في [س]: (المغاري).
(٤) سقط من [أ، ب، جـ، ز، ك].
(٥) في [جـ]: (إذا).
(٦) سقط من: [ك]، ووردت في الحاشية.
(٧) في [ط]: (والجبر).
(٨) في [أ، ب]: (حيلته)، وفي [هـ]: (خليلته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20673
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20673، ترقيم محمد عوامة 19868)