٢٠٦٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث بن سوار عن محمد بن سيرين عن أبي (عبيدة) (١) بن حذيفة قال: كان حذيفة بن اليمان وعبد اللَّه بن ⦗١١٠⦘ مسعود و (أبو) (٢) مسعود الأنصاري وأبو موسى (الأشعري) (٣) في المسجد فجاء رجل فقال: يا عبد اللَّه بن قيس! فسماه باسمه (فقال: أرأيت إن أنا أخذت سيفي فجاهدت به) (٤) أريد وجه اللَّه (تعالى) (٥) (فقتلت) (٦) وأنا على ذلك، (أين) (٧) أنا؟ قال: في الجنة قال حذيفة عند ذلك: استفهم (الرجل) (٨) وأفهمه، فليدخلن النار كذا وكذا يصنع ما قال هذا؟ فقال حذيفة: إن أخذت سيفك فجاهدت به (فأصبت) (٩) الحق (فقتلت) (١٠) وأنت على ذلك فأنت في الجنة ومن أخطأ الحق فقتل وهو على ذلك فلم يوفقه اللَّه ولم يسدده دخل (النار) (١١) قال القوم: (صدقت) (١٢) (١٣).حضرت ابو عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور حضرت ا بو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مسجد میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا : اے عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ! اگر میں اپنی تلوار پکڑ کر اللہ کی رضا کے جذبے پر قائم رہتے ہوئے جہاد کروں اور اسی جذبہ پر قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا ؟ انہوں نے فرمایا : جنت میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر فرمایا کہ اس شخص کی بات کو سمجھو اور اسے ٹھیک بات سمجھاؤ، کیونکہ بات کو غلط سمجھنے کی وجہ سے یہ جہنم میں بھی جاسکتا ہے۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے حق کو درست طریقے سے سمجھا پھر اپنی تلوار لے کر اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے تو جنت میں جاؤ گے لیکن اگر کوئی شخص حق کو سمجھنے میں غلطی کرے اور اس کو راہ حق کی ہدایت نہ ملے، اس پر وہ قتل ہوجائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اس پر سب لوگوں نے کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔