٢٠٦٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن واصل بن السائب الرقاشي قال: سألني عطاء بن أبي (رباح) (١) (أي) (٢) دابة عليك مكتوبة؟ قال فقلت: فرس. قال: تلك الغاية القصوى من (الأجر) (٣) ثم ذكر أن (رسول) (٤) اللَّه ﷺ (قال) (٥): "ألا أدلكم على أحب عباد اللَّه إلى اللَّه بعد النّبيين والصديقين والشهداء قال: عبد مؤمن معتقل رمحه على فرسه يميل به النعاس (يمينًا وشمالًا) (٦) في سبيل اللَّه، يستغفر الرحمن ويلعن الشيطان قال: و (تُفْتَحُ) (٧) أبواب السماء فيقول اللَّه (لملائكته) (٨) انظروا إلى عبدي قال: فيستغفرون له قال: ثم قرأ: ﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ) (٩) بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: ١١١] " إلى آخر الآية (١٠).حضرت واصل بن سائب رقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء بن رباح رحمہ اللہ نے مجھ سے سوال کیا کہ کون سی سواری ایسی ہے جس کو رکھنا فرض ہے ؟ میں نے عرض کیا : گھوڑا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ تو انتہائی اجر کی چیز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے بندوں میں اللہ کے نزدیک انبیائ، صدیقین اور شہداء کے بعد سب سے زیادہ اجر کس کا ہے ؟ وہ مومن بندہ جو اللہ کے راستے میں گھوڑے پر سوار اپنے نیزے سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے اور نیند کی وجہ سے کبھی دائیں ڈولتا ہے کبھی بائیں۔ وہ رحمن سے مغفرت طلب کرتا ہے اور شیطان پر لعنت کرتا ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو دیکھو، فرشتے بھی اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی : : اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات پر خرید لیا ہے کہ ان کے لیے جنت ہے وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں۔ (التوبہ : ١١١)