٢٠٦٦١ - حدثنا يعلى بن عبيد (نا) (١) أبو (حيان) (٢) عن شيخ من أهل المدينة قال: كان بيني وبين كاتب عبيد اللَّه بن زياد صداقة معروفة فطلبت إليه أن (ينسخ) (٣) لي رسالة عبد اللَّه بن أبي أوفى إلى عبيد اللَّه فنسخها (لي) (٤) فكان فيها (أن) (٥) عبد اللَّه ابن أبي أوفى روى عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: "لا تسألوا لقاء العدو، فإذا لقيتموهم فاصبروا، واعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف". وكان ينتظر فإذا (زالت) (٦) الشمس (غدا) (٧) إلى عدوه و (هو) (٨) يقول: "اللهم مُنْزِّل الكلتاب ومجري السحاب (و) (٩) هازم الأحزاب اللهم اهزمهم وانصرنا عليهم" (١٠).مدینہ منورہ کے ایک شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے اور عبید اللہ بن زیاد رضی اللہ عنہ کے ایک کاتب کے درمیان گہری دوستی تھی۔ میں نے اس سے کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے عبید اللہ بن زیاد کی طرف لکھے گئے ایک خط کا نسخہ بنا دے۔ اس نے مجھے اس کا نسخہ بنا کردیا تو اس میں تھا : حضرت عبد اللہ ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دشمن سے نبرد آزما ہونے کی دعا نہ مانگو، جب دشمن سے سامنا ہوجائے تو ثابت قدم رہو۔ یاد رکھو جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ حضور ﷺ کا معمول یہ تھا کہ زوال کے وقت تک انتظار فرماتے جب سورج زائل ہوجاتا تو دشمن پر حملہ کرتے اور فرماتے : : اے اللہ ! تو کتاب کو نازل کرنے والا ہے۔ تو بادلوں کو برسانے والا ہے، تو لشکروں کو شکست دینے والا ہے، انہیں شکست دے دے اور ہماری مدد فرما۔