حدیث نمبر: 20652
٢٠٦٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون (أنا) (١) العوام عن إبراهيم التيمي قال: أرواح الشهداء في طير خضر تسرح (في) (٢) الجنة وتأوي إلى قناديل معلقة (بالعرش) (٣) فيطلع إليهم ربك فيقول: سلوني -ثلاثًا يقولها- فيقولون: ربنا نسألك أن تردنا إلى الدنيا فنقتل في سبيلك قتلة أخرى.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کی شکل میں جہنم کی سیر کرتی ہیں۔ وہ عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں کی طرف جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے تین مرتبہ فرماتا ہے کہ تم مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ ہم تیرے راستے میں ایک مرتبہ اور لڑائی کریں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (نا) وهكذا ما في الأخبار الآتية.
(٢) في [ك]: (من).
(٣) في [أ، ب، س، هـ]: (في العرش).