حدیث نمبر: 20638
٢٠٦٣٨ - حدثنا وكيع نا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: لما أتى أبو عبيدة الشام (حُصر) (١) هو وأصحابه (وأصابهم) (٢) جهد شديد، قال: فكتب إلى عمر، فكتب إليه عمر: (سلام) (٣) (عليك) (٤)، أما بعد: فإنه لم (تكن) (٥) شدة إلا جعل اللَّه بعدها مخرجا، (و) (٦) لن يغلب عسر (يسرين) (٧)، (وكتب) (٨) إليه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران: ٢٠٠]، قال: فكتب إليه أبو عبيدة سلام! أما بعد فإن اللَّه ﵎ قال: ﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ﴾ [الحديد: ٢٠]، إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب ⦗٩٥⦘ أبي (عبيدة) (٩) (فقرأه) (١٠) على الناس فقال: يا أهل المدينة! (إنما) (١١) كتب أبو عبيدة يعرض بكم، ويحثكم على الجهاد، قال زيد: فقال أبي: (فإني) (١٢) (لقائم) (١٣) في السوق إذ (أقبل) (١٤) قوم مبيضين، قد اطلعوا (١٥) (من الثنية) (١٦)، (فيهم) (١٧) حذيفة بن اليمان (يبشرون) (١٨) الناس قال: فخرجت أشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا أمير المؤمنين! أبشر بنصر اللَّه والفتح! فقال عمر: اللَّه أكبر، رب (قائل: لو كان) (١٩) خالد بن الوليد (٢٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ شام آئے تو ان کا اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کرلیا گیا۔ اس وقت وہ شدید تکلیف کا شکار ہوئے۔ انہوں نے مشکل کی اس گھڑی میں مدد کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط کا جواب ان الفاظ کے ساتھ دیا : ” اما بعد ! اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے بعد آسانی رکھی ہے، ایک مشکل دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آسکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت بھی لکھ بھیجی : اے ایمان والو ! صبر کرو اور صبر کی تلقین کرو۔ (آل عمران : آخری آیت) حضر ت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ آیت لکھ بھیجی : : جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل ، تماشا، زینت، باہمی تفاخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی حرص ہی تو ہے۔ (الحدید : ٢٠) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنایا پھر فرمایا کہ اے مدینہ کے لوگو ! ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تمہیں جہاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ سفید لباس والے کچھ لوگ گھاٹی سے نیچے اترے ہوئے نظر آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ لوگوں کو فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں خوشی سے سرشار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور میں نے کہا اے امیر المؤمنین ! فتح کی خوشخبری ہو ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا کہ کاش خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فتح کی خوشخبری دینے والا بھی آجائے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (حضر).
(٢) في [س، ك]: (وأصحابهم).
(٣) في [ب]: (مسلم).
(٤) سقط من: [أ، ب، ز، ط، ك، هـ].
(٥) في [أ، ب، س]: (يكن).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [ط]: (سعرين).
(٨) في [جـ]: (فكتب).
(٩) في [ط]: فراغ.
(١٠) في [أ، ب، ط]: (فقرأ).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [أ، س، ط، هـ]: (إني)، وفي [جـ]: (إني).
(١٣) في [ب]: (لقاسم).
(١٤) في [ب]: (قيل).
(١٥) في [ز]: زيادة (في).
(١٦) سقط من: [س].
(١٧) في [جـ]: (منهم).
(١٨) في [س]: (يشرون).
(١٩) في [س، هـ]: (قاتل)، وفي [أ، ب]: (قائل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20638
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20638، ترقيم محمد عوامة 19834)