حدیث نمبر: 20633
٢٠٦٣٣ - حدثنا وكيع نا الربيع عن الحسن قال: قال (رجل) (١) لعمر: يا خير الناس! قال: لست بخير الناس، ألا (أخبرك) (٢) بخير الناس؟ قال: بلى! يا أمير المؤمنين! قال: رجل من أهل البادية له (صرمة) (٣) من إبل (أو) (٤) غنم، أتى بها (مصرًا) (٥) من (الأمصار) (٦) فباعها، ثم أنفقها في سبيل اللَّه، وكان بين المسلمين وبين عدوهم (فذاك) (٧) خير الناس (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لوگوں میں بہترین شخص کہہ کر مخاطب کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سے بہترین شخص نہیں۔ بلکہ لوگوں میں بہترین گاؤں میں رہنے والا وہ شخص ہے جس کے پاس اونٹوں یا بکریوں کا ریوڑ ہو، وہ اسے لے کر شہر کی طرف آئے اور پھر انہیں بیچ کر ان کی قیمت اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اور مسلمانوں اور مسلمانوں کے دشمنوں کے درمیان برسر پیکار ہوجائے یہ شخص لوگوں میں سب سے بہتر شخص ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ]: (أخبركم).
(٣) في [س]: (حرمة)، وفي [أ، ب]: (ظربة).
(٤) في [أ، س، هـ]: (و).
(٥) في [أ، ب، ز، ك]: (مصر).
(٦) في [أ]: (مصار)، وفي [س، هـ]: (أمصار).
(٧) في [هـ]: (فذلك).
(٨) منقطع؛ الحسن لم يدرك عمر.