٢٠٦٣١ - حدثنا (همام نا عفان) (١) نا محمد بن (جحادة) (٢) أن أبا حصين حدثه أن أبا صالح حدثه أن أبا هريرة حدثه قال: جاء (رجل) (٣) إلى النبي ﷺ (٤) فقال: يا ⦗٩١⦘ رسول اللَّه! علمني عملا يعدل الجهاد، قال: "لا أجده" [(ثم) (٥) قال: "هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم لا تفتر، وتصوم] (٦) (و) (٧) لا تفطر"، قال: لا أستطيع (ذلك) (٨)، فقال أبو هريرة: إن فرس المجاهد ليستن في طوله (فتكتب) (٩) (له) (١٠) (حسناته) (١١) (١٢).حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو جہاد کے برابر ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تو کسی ایسے عمل کو نہیں جانتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جب مجاہد نکل جائے تو مسجد میں جاؤ اور بغیر سستی کے نماز پڑھو اور بغیر افطار کیے مسلسل روزے رکھو ؟ اس نے کہا : میں تو اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجاہد کا گھوڑا اپنی رسی میں چکر لگاتا ہے پھر بھی مجاہد کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے۔